1 نومبر 2012 - 20:30

سعودي عرب کي حمايت يافتہ بحريني شاہي حکومت کے سيکورٹي اہلکاروں نے سياسي قيديوں کي حمايت ميں مظاہرہ کرنے والوں کو اپنے حملوں کا نشانہ بنايا ہے-

ابنا: ہزاروں کي تعداد ميں بحريني شہريوں نے سياسي قيديوں کي حمايت ميں ملک کے مختلف شہروں اور قصبوں ميں مظاہرے کئے ہيں- مظاہرين سرکردہ سياسي کارکن حسن مشيمع سميت تمام سياسي کارکنوں کي فوري رہائي کا مطالبہ کر رہے تھے-کہا جارہا ہے کہ حسن مشيمع کي حالت جيل ميں کئے جانے والے تشدد کي وجہ سے تشويشناک ہوگئي ہے-

عيني شاہدين کا کہنا ہے کہ سعودي عرب کے حمايت يافتہ بحريني سيکورٹي اہلکاروں نے حسن مشيمع کے گھر کے باہر جمع ہونے والے مظاہرين پر بلا اشتعال حملہ کرديا اور انہيں زبر دست تشدد کا نشانہ بنايا-

کہا جارہا ہے کہ سيکورٹي اہلکاروں نے مظاہرين کے خلاف زہريلي آنسو گيس کا استعمال کيا اور بعد ازاں گولياں چلا ديں جس کے  نتيجے ميں متعدد افراد شديد زخمي ہوگئے- حسن مشيمع حق نامي حکومت مخالف جماعت کے سرکردہ سياسي کارکن ہيں اور انہيں جون دوہزار گيارہ کو  اس وقت گرفتار کيا گيا تھا جب وہ طبي معائنے کے بعد لندن سے وطن واپس پہنچے تھے- حکومت بحرين ان کي جسماني حالت خراب ہونے کے باوجود انہيں رہا کرنے کے لئے تيار نہيں ہے-

ايک اور اطلاع يہ ہے کہ سعودي عرب کے حمايت يافتہ بحرين سيکورٹي اہلکاروں نے اپوزيشن جماعت الوفاق کے تين رہنماؤں  کو  محصور شہر العکر ميں حکومت مخالف مظاہرے  کا انتظام کرنے کے الزام ميں حراست ميں لے ليا ہے- بحريني اور غاصب سعودي فوجيوں نے اپنے ايک ايجنٹ کي ہلاکت کے بہانے اٹھارہ اکتوبر سے العکر کا محاصرہ کر رکھا ہے اور اس علاقے ميں غذائي اشياء اور دوائيں لے جانے کي اجازت نہيں دے رہے ہيں......

/169